ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کیا مذہبی اور سیاحتی مقام  گوکرن ڈرگس اور غیر اخلاقیت کا مرکز ہے؟؟؟

کیا مذہبی اور سیاحتی مقام  گوکرن ڈرگس اور غیر اخلاقیت کا مرکز ہے؟؟؟

Sun, 19 Mar 2017 19:02:12    S.O. News Service

کمٹہ  :19/مارچ    (ایس او نیوز)  ضلع اُترکنڑا میں ڈرگ یعنی نشیلی اشیاء کی فروخت اور نشہ کی لت میں نوجوانوں کی بداخلاقی کے واقعات میں روز بروز اضافہ دیکھا جارہاہے ، دوچار ماہ پہلے بھٹکل کے ایک علاقہ میں کافی مقدار میں نشیلی اشیاء کو ضبط کئے جانے کا معاملہ پیش آیا تھا اسی طرح مزید علاقوں کے واقعات بھی اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں ، تازہ اطلاع ضلع کے مشہور مذہبی اور سیاحتی مقام گوکرن سے موصول ہوئی ہے جس کے تعلق سے شبہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ یہ سیاحتی مقام ڈرگ مافیا کے مرکز کے طورپر پہنچانا جانے لگاہے ، کیا گوکرن کہیں ضلع بھر میں ہورہی نشیلی اشیاء کی خرید و فروخت کا مرکز  تو نہیں ہے؟ 

ذرائع کی مانیں تو نشیلی اشیاء کی فروخت کاری میں گوکرن جیسے سیاحتی مقام پر روس (رشین )مافیا کی پکڑ مضبوط ہورہی ہے،  اورکئی لوگ اس بات کو لے کر فکرمند ہیں کہ مذہبی مقام گوکرن کا تقدس مجروح ہورہا ہے۔  ایک اطلاع کے مطابق رشین ڈرگ مافیا کے لئے گوکرن  پڑوسی ریاست گواسے زیادہ محفوظ مقام ہے، جہاں سےنشیلی اشیاء(ڈرگ) کا نشہ حاصل کیا جاسکتا ہے اور گوکرن کے تعلق سے بتایا جارہا ہے کہ یہ مقام ڈرگ کو زائد استعمال کرنے والے مقام میں  شمار ہورہا ہے۔

ملک کے سیاحتی مقامات پر ڈرگ استعمال معمول بن گیا ہے ، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ان تمام سیاحتی مقامات پر ڈرگ کی سپلائی رشین مافیا ہی کرتاہے، جب کہ گوکرن میں ڈرگ بیچنے والوں میں جو بھارتی ہوتے ہیں وہ پولس کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں،خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہاں رشین لوگ مختلف وجوہات کی بنا پولس کے جال سے محفوظ رہتےہیں۔

ذرائع کے مطابق  نیپال اور بھارتی ڈرگ سپلائر اور رشین ڈرگ مافیاگوکرن میں  نشیلی اشیاء سپلائی کرنے والے گروہ ہیں، لیکن ان میں رشین ڈرگ کے پیمانے کے سامنے بقیہ کی کوئی قیمت نہیں ہے، کیونکہ رشین کو بہت سارے جغرافیائی اور علاقائی عناصر ساتھ دیتے ہیں۔ رشین غیر ملکی ہیں، غیر ملکی سیاحوں کو ہراسانی وغیرہ نہیں کی جاسکتی ، ان تمام مواقعوں کو استعمال کرتےہوئے رشین نشیلی اشیاء کے معاملا ت کو بخوبی انجام دیتے ہیں۔ اعداد و شمارات کی شک کی سوئی بھی  اسی طرف اشارہ کررہی ہے، گوکرن کا سفر کرنے والے غیر ملکی سیاحوں  میں 70%رشین سیاح ہیں، بقیہ اسرائیل  ، انگلینڈ اور دیگر ممالک کے سیاح ہوتے ہیں۔ عام طورپر ان سیاحوں کا گوکرن کی طرف رخ کرنے کی اہم وجوہات نشیلی اشیاء کا استعمال اور کھلی جنسی آزادی بتائی جاتی ہیں لیکن ان میں شریف اور سنجید ہ سیاح بھی ہوتے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو قدرتی مناظر، ساحل سمندر کی خوبصورتی ، اور سیاحت کے شوق سے کھینچے چلے آتے ہیں۔  لیکن سمجھا جاتا ہے کہ زیادہ تر لوگ اپنی لت کے عادی ہوکر یہاں ڈرگ کے لئے ہی سفر کرتے ہیں۔ پولس سے ان لوگوں کی اچھی شناسائی ہے، ان کو بھارت میں کوئی ڈر نہیں ہے ، کیونکہ بھارت میں بھارتیوں سے زیادہ غیرملکی شہریوں کوتحفظ فراہم کیا جاتا ہے اور لوگ بھی غیر ملکیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سرکار بھی چاہتی ہے کہ بیرونی سیاح یہاں زیادہ تعداد میں آئیں۔ یہ فطری بات ہے، کیونکہ سیاحت کے لئے ہماری سرمایہ داری سے بیرونی سیاح ہی خام مال کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ غیر ملکی ہونا ، ایمباسی سے تعلق ہونا ، اور کسی بھی معاملے پر حکومت کی جانب سے دباؤ بنانے جیسے مواقعوں کا یہ لوگ بہتر استعما ل کرتے ہیں۔

گوکرن کی پولس ہی نہیں بلکہ یہاں کے عوام بھی اچھی طرح جانتے اور پہنچانتے ہیں کہ غیرملکیوں میں کون سیاح ہے اور کون ڈرگ سپلائر ہے۔  اسی طرح نیپالی اور بھارتی ڈرگ سپلائر بھی ہیں جن کے اپنے اڈے ہیں۔کچھ سپلائر  گوکرن میں کرایہ پر مکان لے کر اپنا نیٹ ورک بناتے ہیں اور پھر’’ دم مارو دم ‘‘ کی محفل سجتی ہے، کہا جارہا ہے کہ  اس میں رشین مافیا کا جال پورے معاملے پر کنٹرول رکھتا ہے۔ بنگلورو سے بس کے ذریعے گوکرن پہنچنے والے آئی ٹی ، بی ٹی کے سیاحوں سے ملاقات کرکے انہیں ڈرگ بیچنا چلتارہتاہے، ویسے گانجا اور نشیلی اشیاء کا دھندہ کافی نفع بخش ہوتاہے، نیپالی سپلائر چرس، کوکین سپلائی کرتے ہیں تو غیر ملکی ہیرائین ، براؤن شوگر کے علاوہ کچھ انجان نشیلی اشیاء کی فروخت کرتےہیں، پتہ چلا ہے کہ ضلع کے اکثر لوگ گانجہ بیچنے میں مصروف ہیں۔ سرسی کے داسن کوپا، بنواسی  سے اور شیموگہ سے گانجہ سپلائی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، اور شہر میں  گانجہ اکثر ترکاری سواریوں کے ذریعے سپلائی  ہونے کا شبہ جتایا گیا ہے۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ رشین ڈرگ مافیا پولس  کو نظر انداز کرتاہو، اور یہاں کی پولس انہیں آزادی کے ساتھ معاملہ  کرنے دیتی ہو،  بلکہ خبر ہے کہ پولس  ان لوگوں سے ہر ماہ بڑی پابندی کے ساتھ ہفتہ وصول کرتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہیہ سب خفیہ طریقے سے انجام دیاجاتاہے۔ نہ رشین مافیا کسی کے سامنے زبان کھولتاہے اور نہ پولس رشین کے خلاف کوئی کیس درج کرتی ہے۔ البتہ اپنے متحرک ہونے کا ثبوت پیش کرنے کے لئے پولس  بھارتی سپلائرس پر کیس درج ضرور  کرتی رہتی ہے۔ 

گوکرن جیسے مذہبی مقام کے مستقبل کولے کر کچھ فکرمند اور سنجیدہ شخصیات نے مطالبہ کیا ہے کہ ہر حال میں ڈرگ پر پابندی عائد کی جائے ورنہ مستقبل میں اس مذہبی مقام کے تقدس کو بٹہ لگنے کا خدشہ ہے، فی الحال یہ مقام سیاحوں کے لئے  نشیلی اشیاء اور غیراخلاقی حرکات کا مرکز بنا ہواہے ۔


Share: